Garden-fresh finds · Free shipping over $65 · Browse the beds

Majmua Syed Rafiq Husain aslam rahi عثمانی ترک، جن کا نام

SKU: 8010346533

4.0
USD342.50 USD386.50

Pay in 4 interest-free payments of $85.62 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 7 - Aug 12

Description

عثمانی ترک، جن کا نام ان کے پہلے فرمانروا عثمان خان سے منسوب ہے،ایشیائے کوچک میں پہلے خانہ بدوشوں کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ ان خانہ بدوش ترک قبائل نے سلجوقی ولایتوں کی بنیاد رکھ کر مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے وسط اناطولیہ کی سرزمین پر ایک نئے تاریخی دَور کی ابتدا کی۔ اور پھر انہی کے بطن سے عثمانی سلطنت کا آغاز ہوا جس کی سرحدیں تین براعظموں اور پانچ صدیوں تک پھیل گئیں۔ قسطنطنیہ جیسا اہم یورپی شہر اس سلطنت کا پایہ تخت بن کر سلطنت ِعثمانیہ کی پہچان بن گیا۔ اس سلطنت کی تاریخ کئی حوالوں سے اہم ہے کہ عثمانیوں نے رومیوں اور بازنطینیوں کی جگہ ایک خلا کو پُر کرکے نئی ترک تہذیب کی بنیاد رکھی۔ سلطنت ِ عثمانیہ کو اسلامی تاریخ کا اہم ترین باب قرار دیا جاتا ہے جس نے تین براعظموں کی لاتعداد ثقافتوں اور خطوں پر اپنا پرچم سربلند کردیا۔ عثمانی تاریخ وتہذیب ترکوں کی ہی میراث نہیں بلکہ غیرترک مسلمان بھی اسے اپنی میراث سمجھتے ہیں۔ عرب، ہند، فارس، انڈونیشیا، چین، ترکی، وسطی ایشیا اور کاکیشیا جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، وہ عثمانی دَور کو محبت اور فخر سے یادکرتے ہیں۔ اس دَور کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ عثمانیوں نے زیرحکمرانی خطوں میں بسنے والے غیرمسلموں پر کوئی جبر نہیں کیا۔ اسی حکمت عملی نے عثمانیوں کو پانچ صدیاں مختلف خطوں، قوموں، تہذیبوں، ثقافتوں پر حکمرانی کرنے کے مواقع فراہم کردئیے۔ آج کی جدید دنیا میں بھی عثمانی تاریخ وتہذیب اور عثمانی سلطنت کو بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ترکوں نے اسلام کی جوگراں قدر خدمات انجام دی ہیں، دفاع وجہاد کے فرض کو، جس سرفروشی سے ادا کیا ہے، اس کا اعتراف جتنا بھی کیا جائے کم ہے، صرف یہی ایک بات ہر اس تالیف کے لیے معقول وجہ ہوسکتی ہے، جو عثمانی ترکوں کے کارناموں پر ترتیب دی جائے۔ اس کتاب کی ترتیب میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی اور فارسی کی مستند ترین کتابوں، نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لی گئی ہے اور تلاش وتحقیق کے حوالے سے یہ ایک جامع اور مستند کتاب ہے۔

Liaqat Ali Khan NiaziLanguage: UrduNumber of Pages: 338

جناب ذوالفقار علی بھٹو ،پاکستان کی سیاست کا محور ہیں۔ 1957ء میں اقوام متحدہ میں ایک تقریر کے بعد وہ ملکی سیاست میں داخل ہوئے۔ اس دن سے آج تک ذوالفقار علی بھٹو کا نام پاکستان کے سیاسی میدان میں سب سے نمایاں ہے۔ ’’ میرا لہو ‘‘ ذوالفقار علی بھٹو پر سب سے مقبول اور مستندکتاب ہے جس میں ان کی شخصیت ، سیاست اور ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمۂ قتل پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کی پہلی بار اشاعت 1986ء میں ہوئی ، جس کا دیباچہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے لکھا تھا۔ اس کتاب کے متعدد ایڈیشن ترامیم اور اضافہ کے ساتھ شائع ہوئے ہیں۔ اردو زبان میں یہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے حوالے سے ایک منفرد و سیاسی سوانح حیات ہے۔ اس کا مطالعہ اب دوسری نسل تک جاری ہے۔در حقیقت یہ کتاب 1965ء سے لے کر 1980ء کی دہائی تک کی سیاست کا بھی احاطہ کرتی ہے،اس لیے سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کا مطالعہ بڑا مددگار ہے۔ کتاب کے مصنف فرخ سہیل گوئندی ملکی و عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو پر ان کے لاتعداد مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اس طرح یہ کتاب ایک ایسے پولٹیکل سائنٹسٹ کے قلم سے ایک منفرد تحریر ہے جس کا سیاست پر اپنا ذاتی مشاہدہ بھی ہے۔

شادی کی اہمیت کے بارے میں ایک بزرگ کا قول

Majmua Syed Rafiq Husain aslam rahi عثمانی ترک، جن کا نامLanguage: UrduNumber of Pages: 358

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products